-
اس دعا کو دعائے حج کہا جاتا ہے سید نے اپنی کتاب اقبال میں امام جعفر صادق -سے روایت کی ہے کہ ماہ رمضان کی راتوں میں بعد از مغرب یہ دعا پڑھے کفعمی نے بلد الامین میں فرمایا ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں ہر روز اور اس مہینے کی پہلی رات اس دعا کا پڑھنا مستحب ہے نیز مقنع میں شیخ مفید (رح) نے یہ دعاخصوصاً رمضان کی پہلی رات بعد از مغرب پڑھنے کیلئے نقل فرمائی ہے ۔
This supplication is called Du`�' al-�ajj. It has been narrated by Sayyid Ibn ��w�s in �al-Iqb�l� that Imam al-��diq (a.s) used to say this supplication after the Maghrib (sunset) Prayers in Rama��n. moreover, Shaykh al-Kaf`amiy, in �al-Balad al-Am�n�, has narrated that it is recommended to recite the supplication every day in Rama��n and especially at the first night of it
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ
اللہ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
In The Name Of Allah, The Beneficent, The Merciful
اللّهُمَّ إنِّي بِكَ وَمِنْكَ أَطْلُبُ حَاجَتِي،
اے معبود! میں تیرے ہی ذریعے تجھ سے اپنی حاجت طلب کرتاہوں
O Allah: From You and by You, I beseech for settling my need,
وَمَنْ طَلَبَ حَاجَةً إلَى النَّاسِ
اور جو لوگوں سے طلب حاجت کرتا ہے کیا کرے
If others beg people for settling their needs,
فَإنِّي لا أَطْلُبُ حَاجَتِي إلا مِنْكَ
سوا کسی سے طلب حاجت نہیں کرتا
I ask none except You for settling my need;
وَحْدَكَ لا شَرِيكَ لَكَ،
تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں
From You alone, since You have no partner with You
وَأَسْأَلُكَ بِفَضْلِكَ وَرِضْوَانِكَ
اور سوال کرتا ہوں تجھ سے بواسطہ تیری عطا و مہربانی کے
and I thus implore You in the name of Your favor and Your pleasure,
أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ
یہ کہ حضرت محمد(ص) اور ان کے اہلب(ع)یت پر رحمت نازل فرما
to send blessings upon Muhammad and his Household,
وَأَنْ تَجْعَلَ لِي فِي عَامِي هذَا إلَى بَيْتِكَ الْحَرَامِ سَبِيلاً
اور میرے لئے اسی سال میں اپنے محترم گھر کعبہ پہنچنے کا وسیلہ بنا دے
And to choose for me a way to Your Holy House this year:
حِجَّةً مَبْرُورَةً مُتَقَبَّلَةً زَاكِيةً خَالِصَةً لَكَ
وہاں مجھے حج صیب کر جو درست مقبول پاکیزہ اور خاص تیرے ہی لئے ہو
A pilgrimage that is admitted, accepted, pure, and sincerely for You
تَقَرُّ بِهَا عَيْنِي،
اس سے میری آنکھیں ٹھنڈی کر
By which You delight me,
وَتَرْفَعُ بِهَا دَرَجَتِي،
ور میرے درجے بلند فرما
And raise my rank with You
وَتَرْزُقَنِي أَنْ أَغُضَّ بَصَرِي،
مجھے توفیق دے کہ حیا سے آنکھیں نیچی رکھوں
And to confer upon me with the grace of making me cast my sight down (against what is illegal for me to look at)
وَأَنْ أَحْفَظَ فَرْجِي،
اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کروں
And making me act chastely
وَأَنْ أَكُفَّ بِهَا عَنْ جَمِيعِ مَحَارِمِكَ
اور تیری حرام کردہ ہر چیز سے بچ کے رہوں
And making me stop committing any deed that You have deemed unlawful
حَتَّى لا يَكُونَ شَيْءٌ آثَرَ عِنْدِي مِنْ طَاعَتِكَ وَخَشْيَتِكَ
یہاں تک کہ میرے نزدیک تیری فرمانبرداری اور تیرے خوف سے عزیز تر کوئی چیز نہ ہو
So that nothing will be more preferred in my sight than the obedience to You and the fear of You
وَالْعَمَلِ بِمَا أَحْبَبْتَ،
اور جس چیز کو تو پسند کرتا ہے اس پر عمل کروں
And doing all that which You love,
وَالتَّرْكِ لِمَا كَرِهْتَ وَنَهَيْتَ عَنْهُ،
اور جسے تو نے نا پسند کیا اور اس سے روکا ہے اسے چھوڑ دوں
And avoiding all that which You have detested and warned against.
وَاجْعَلْ ذلِكَ فِي يُسْرٍ وَيَسَارٍ وَعَافِيَةٍ وَمَا أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ،
اور یہ اس طرح ہو کہ اس میں آسانی فروانی و تندرستی ہو اور اس کے ساتھ جو بھی نعمت تو مجھے عطا کرے
And (please) make all that take place with easiness, lenience, and good health as well as the grave that You have bestowed upon me.
وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ وَفَاتِي قَتْلاً فِي سَبِيلِكَ
اور تجھ سے سوالی ہوں کہ میری موت کو ایسا قرار دے گویا میں تیری راہ میں قتل ہوا ہو
And I beseech You to cause me to die as martyr for Your sake,
تَحْتَ رَايَةِ نَبِيِّكَ مَعَ أَوْلِيَائِكَ،
تیرے نبی(ص) کے جھنڈے تلے تیرے دوستوں کے ہمراہ
Under the pennon of Your Prophet and in the line of Your intimate servants.
وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَقْتُلَ بِي أَعْدَاءَكَ وَأَعْدَاءَ رَسُولِكَ،
اور سوال کرتا ہوں مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اور تیرے رسول (ص) کے دشمنوں کو قتل کروں
And I ask You to make me the means of killing Your enemies and the enemies of Your Messenger.
وَأَسْأَلُكَ أَنْ تُكْرِمَنِي بِهَوَانِ مَنْ شِئْتَ مِنْ خَلْقِكَ
اور سوال کرتا ہوں کہ تو اپنی مخلوق میں سے جس کی خواری سے چاہے مجھے عزت دے
And I ask You to honor me through humiliating any one of Your created beings that You choose,
وَلا تُهِنِّي بِكَرَامَةِ أَحَدٍ مِنْ أَوْلِيَائِكَ.
لیکن اپنے پیاروں میں سے کسی کی عزت کے مقابل مجھے ذلیل نہ فرما۔
And not to humiliate me through honoring any of Your intimate servants.
اللّهُمَّ اجْعَلْ لِي مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلاً،
اے معبود! حضرت رسول کے ساتھ میرا رابطہ قائم فرما
O Allah: find me a way with the Messenger.
حَسْبِيَ اللّهُ، مَا شَاءَ اللّهُ.
کافی ہے میرے لئے اﷲ جو اﷲ چاہے وہی ہوگا۔
Allah is Sufficient unto me! Only that which Allah wants shall take place.